17 ستمبر 2026 - 16:31
مصری مصنف: عوامی دباؤ سے صیہونی ریاست کی مغربی حمایت کمزور پڑ رہی ہے

مصری مصنف ایہاب شوقی نے صیہونی ریاست اور مغربی ممالک کے درمیان حالیہ تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عوامی احتجاج میں اضافے اور سیاسی اختلافات کے نمایاں ہونے سے مغربی حامیوں کے لیے صیہونی ریاست کی حمایت کی سیاسی قیمت بڑھ گئی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مصری مصنف ایہاب شوقی نے ایک مضمون میں گزشتہ چند ماہ کے دوران عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے یورپ اور امریکہ میں صیہونی ریاست کے بارے میں عوامی رائے میں تبدیلی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کے مطابق عوامی احتجاج میں شدت، سیاسی تنقید میں اضافے اور بعض مغربی حکومتوں اور تل ابیب کے درمیان کھلے اختلافات اس بات کی علامت ہیں کہ صیہونی ریاست کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

شوقی نے جسے صیہونی ریاست کے بارے میں ’’عالمی سوچ میں بڑی تبدیلیاں‘‘ قرار دیا، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلیاں صرف عوامی رائے تک محدود نہیں رہی بلکہ تل ابیب اور اس کے بعض حامی ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات تک بھی پہنچ چکی ہیں۔

انہوں نے برطانیہ اور صیہونی ریاست کے درمیان حالیہ اختلافات کے ساتھ ساتھ بعض یورپی ممالک اور امریکہ میں ہونے والے عوامی احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی دباؤ نے مغربی حکومتوں کو صیہونی ریاست کی حمایت جاری رکھنے کے طریقہ کار کے حوالے سے مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔

مصری مصنف نے صیہونی ریاست کے قیام میں برطانیہ کے کردار پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بالفور اعلامیے اور فلسطین پر برطانوی مینڈیٹ کے دور کو اس ریاست کے قیام کے تاریخی عمل کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال اور تل ابیب کی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید نے لندن کو اندرونی اور عالمی دباؤ کا سامنا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

شوقی نے یورپ کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور جنگ اور صیہونی ریاست کی پالیسیوں کے خلاف عوامی احتجاج میں اضافے کو یورپی حکومتوں کے مؤقف پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں شمار کیا۔

ان کے مطابق سوشل میڈیا کے پھیلاؤ اور فلسطین کی صورتحال سے متعلق تصاویر اور معلومات تک عوام کی براہ راست رسائی نے صیہونی ریاست کے بارے میں روایتی میڈیا کے بیانیے کو متاثر کیا ہے۔

امریکہ کے حوالے سے شوقی نے دعویٰ کیا کہ اس ملک کے معاشرے کا ایک حصہ واشنگٹن کی جانب سے صیہونی ریاست کی حمایت کو امریکی مفادات سے متصادم سمجھتا ہے۔

انہوں نے اسی حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات کا ذکر کیا، جن میں واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بعض اختلافات اور مفادات کے ٹکراؤ کی بات کی گئی تھی۔ شوقی نے ان بیانات کو دونوں فریقوں کے تعلقات میں بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت قرار دیا۔

مصری مصنف نے اپنے مضمون کے ایک اور حصے میں صیہونی ریاست کی مسلسل فوجی کارروائیوں اور اس پر بڑھتی ہوئی عالمی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال نے اس ریاست کے حامی ممالک کے لیے تل ابیب کے اقدامات کا سیاسی دفاع کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ ان کے دعوے کے مطابق یہ سلسلہ جاری رہا تو صیہونی ریاست کی عالمی سطح پر تنہائی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

شوقی نے آخر میں فلسطینیوں کی مزاحمت اور جاری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے پیش گوئی کی کہ صیہونی ریاست کے اقدامات کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور عالمی قیمت مغربی ممالک کی جانب سے اسے سیاسی اور فوجی حمایت فراہم کرنے کے عمل کو مزید مشکلات سے دوچار کرسکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha